ایک جملہ ہمارے ہاں بہت مشہور ہے:
كما تكونوا يولى عليكم
“جیسی تمہاری حالت ہو گی، ویسے تم پر حکمران مقرر کیے جائیں گے۔”
اس کے ساتھ ایک اور جملہ بھی چلتا ہے:
أعمالكم عمالكم
“تمہارے اعمال ہی تمہارے عمال، یعنی حکمران اور اہلکار، ہیں۔”
یہ دونوں جملے اتنے دہرائے گئے ہیں کہ بہت سے لوگ انہیں حدیث سمجھتے ہیں۔ پھر ان سے ایک پوری سیاسی اخلاقیات بنائی جاتی ہے: حکمرانوں پر بات نہ کرو، ظلم پر آواز نہ اٹھاؤ، بس اپنے آپ کو ٹھیک کرو، جب عوام ٹھیک ہو جائیں گے تو حکمران بھی ٹھیک ہو جائیں گے۔ یہ بات سننے میں دینی لگتی ہے۔ مگر دین صرف دینی لگنے والی بات کا نام نہیں۔ دین وحی، سند، دلیل، حکم، عدل، اور امانت کا نام ہے۔
اگر کوئی جملہ رسول اللہ ﷺ کی طرف منسوب کیا جا رہا ہے تو سوال جذبات کا نہیں، سند کا ہے۔ راوی کون ہیں؟ سند متصل ہے یا منقطع؟ راوی ثقہ ہیں یا مجروح؟ قول نبی ﷺ تک صحیح طور پر پہنچتا ہے یا راستے میں گر جاتا ہے؟
جب اس اصول پر ان دونوں جملوں کو پرکھا جائے تو نتیجہ صاف ہے:
یہ دونوں رسول اللہ ﷺ کی صحیح حدیث نہیں ہیں۔
“كما تكونوا يولى عليكم” کی ایک روایت بیہقی کی شعب الإيمان میں آتی ہے۔ بیہقی نے اسے ذکر کرنے کے بعد خود کہا:
هذا منقطع وراويه يحيى بن هاشم وهو ضعيف
یعنی:
“یہ منقطع ہے، اور اس کا راوی یحییٰ بن ہاشم ضعیف ہے۔”
سند کا منقطع ہونا ہی کافی تھا۔ پھر اس میں یحییٰ بن ہاشم ہے، جس پر سخت جرح موجود ہے۔ عقیلی نے الضعفاء الكبير میں اس کے بارے میں نقل کیا:
كان يضع الحديث على الثقات
“وہ ثقہ راویوں پر حدیث گھڑتا تھا۔”
یہ معمولی ضعف نہیں۔ یہ ایسا ضعف ہے جو روایت کو گرا دیتا ہے۔ جس روایت میں انقطاع بھی ہو، اور ایسا راوی بھی ہو، اسے نبی ﷺ کی حدیث بنا کر پیش کرنا حدیثی امانت کے خلاف ہے۔
اسی قول کی ایک دوسری سند حسن بصری، ابو بکرہ رضی اللہ عنہ، اور مبارک بن فضالہ کے راستے سے آتی ہے۔ مگر وہاں بھی مسئلہ حل نہیں ہوتا۔ ابن حجر سے منقول ہے کہ مبارک بن فضالہ تک پہنچنے والی سند میں مجاهيل، یعنی نامعلوم راوی، ہیں۔ پھر مبارک بن فضالہ خود تدلیس کے لیے معروف ہیں۔ جب مدلس راوی “عن” سے روایت کرے اور سماع کی صریح عبارت نہ دے، تو روایت مضبوط نہیں ہوتی۔ اس لیے اس راستے سے بھی یہ جملہ رسول اللہ ﷺ سے ثابت نہیں ہوتا۔
دوسرا جملہ أعمالكم عمالكم ہے۔
“تمہارے اعمال ہی تمہارے حکمران ہیں۔”
اس کے بارے میں کشف الخفاء میں صاف لکھا گیا:
لم أره حديثاً
“میں نے اسے حدیث کے طور پر نہیں دیکھا۔”
یہ زیادہ سے زیادہ ایک مقولہ ہے۔ وعظی جملہ ہو سکتا ہے۔ کسی سلف کا قول ہو سکتا ہے۔ سیاسی اخلاقیات میں چلتا ہوا فقرہ ہو سکتا ہے۔ مگر حدیث نہیں۔ اور حدیث نہ ہونا معمولی بات نہیں۔ جب کوئی کمزور یا غیر ثابت قول عوام کو ظلم کے سامنے خاموش کرنے کے لیے استعمال ہو، تو وہ صرف علمی غلطی نہیں رہتی۔ وہ دینی زبان میں سیاسی بے حسی پیدا کرتی ہے۔
یہاں اصل سوال کھلتا ہے:
اگر یہ دونوں جملے حدیث نہیں، تو قرآن و صحیح حدیث اس مسئلے کو کیسے بیان کرتے ہیں؟
قرآن سب سے پہلے حاکم کو پکڑتا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُكُمْ أَن تُؤَدُّوا الْأَمَانَاتِ إِلَىٰ أَهْلِهَا وَإِذَا حَكَمْتُم بَيْنَ النَّاسِ أَن تَحْكُمُوا بِالْعَدْلِ
“اللہ تمہیں حکم دیتا ہے کہ امانتیں ان کے اہل کو پہنچاؤ، اور جب لوگوں کے درمیان فیصلہ کرو تو عدل کے ساتھ فیصلہ کرو۔”
یہ آیت عوام سے پہلے حکم، امانت، اور عدل کو مرکز میں رکھتی ہے۔ جس کے ہاتھ میں حکم ہے، اس کے ہاتھ میں امانت ہے۔ جس کے ہاتھ میں فیصلہ ہے، اس پر عدل فرض ہے۔ حاکم عوام کا بے اختیار عکس نہیں۔ وہ امانت اٹھانے والا ہے۔
پھر اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
أَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَأُولِي الْأَمْرِ مِنكُمْ فَإِن تَنَازَعْتُمْ فِي شَيْءٍ فَرُدُّوهُ إِلَى اللَّهِ وَالرَّسُولِ
“اللہ کی اطاعت کرو، رسول کی اطاعت کرو، اور اپنے میں سے اہلِ امر کی۔ پھر اگر کسی چیز میں اختلاف ہو تو اسے اللہ اور رسول کی طرف لوٹاؤ۔”
یہاں اطاعت ہے، مگر اندھی اطاعت نہیں۔ اولی الامر خود اللہ اور رسول کے تابع ہیں۔ اگر نزاع ہو تو فیصلہ حاکم کی مرضی سے نہیں، اللہ اور رسول کی طرف رجوع سے ہو گا۔
قرآن یہ بھی کہتا ہے:
وَكَذَٰلِكَ نُوَلِّي بَعْضَ الظَّالِمِينَ بَعْضًا بِمَا كَانُوا يَكْسِبُونَ
“اسی طرح ہم بعض ظالموں کو بعض پر ان کے اعمال کی وجہ سے مسلط یا قریب کر دیتے ہیں۔”
یہ آیت حقیقی ہے۔ اجتماعی ظلم، گناہ، فاسد اخلاق، اور بے عملی انسانوں کو ظالم قوتوں کے حوالے کر سکتے ہیں۔ مگر یہ آیت کمزور مقولے کو حدیث نہیں بناتی۔ نہ یہ کہتی ہے کہ حاکم بے قصور ہے۔ نہ یہ کہتی ہے کہ ہر حکمران صرف عوام کا عکس ہے۔ یہ کہتی ہے کہ ظلم ایک دوسرے کو جنم دیتا ہے۔ ظالم ظالموں کے ساتھی بن جاتے ہیں۔
لیکن جب ظالم حاکم بن جائے تو وہ صرف عکس نہیں رہتا۔ وہ فساد کو منظم کرتا ہے۔ وہ ظلم کو قانون بناتا ہے۔ وہ بددیانت کو منصب دیتا ہے۔ وہ صالح کو کمزور کرتا ہے۔ وہ عدالت، خزانہ، پولیس، فوج، مدرسہ، منبر، بازار، اور میڈیا کو اپنی سمت میں موڑتا ہے۔
عوام گناہ کر سکتے ہیں۔ مگر حاکم گناہ کو نظام بنا سکتا ہے۔
اسی لیے صحیح حدیثی ذخیرہ “جیسی رعایا ویسے حکمران” کے بجائے “حکم” کو زوال کا پہلا مقام بناتا ہے۔
ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
لتنقضن عرى الإسلام عروة عروة، فكلما انتقضت عروة تشبث الناس بالتي تليها، فأولهن نقضاً الحكم، وآخرهن الصلاة
“اسلام کی گرہیں ایک ایک کر کے ٹوٹیں گی۔ جب ایک گرہ ٹوٹے گی تو لوگ اگلی گرہ سے چمٹ جائیں گے۔ سب سے پہلے جو گرہ ٹوٹے گی وہ حکم ہو گا، اور سب سے آخری نماز ہو گی۔”
غور کریں۔ پہلی گرہ نماز نہیں۔ پہلی گرہ روزہ نہیں۔ پہلی گرہ فرد کی اندرونی کیفیت نہیں۔
پہلی گرہ الحكم ہے۔
حکم، فیصلہ، قضا، حکومت، شریعت کے مطابق نظم، عدل کا نظام۔ یہ پہلے ٹوٹتا ہے۔ نماز آخر تک رہتی ہے۔ یعنی امت کے زوال کو رسول اللہ ﷺ نے سب سے پہلے حکم کے ٹوٹنے سے بیان کیا۔
یہ کمزور مقولے کی الٹ تصویر ہے۔
پھر صحیح بخاری میں ابو بکر رضی اللہ عنہ کا واقعہ آتا ہے۔ ایک عورت احمس قبیلے سے تھی۔ اس نے خاموش حج یا خاموش عبادت کی نیت کر رکھی تھی۔ بات نہیں کرتی تھی۔ ابو بکر رضی اللہ عنہ نے پوچھا کہ یہ بات کیوں نہیں کرتی؟ لوگوں نے کہا: اس نے خاموش رہ کر حج کرنے کا ارادہ کیا ہے۔ ابو بکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا:
تكلمي، فإن هذا لا يحل، هذا من عمل الجاهلية
“بات کرو، یہ حلال نہیں، یہ جاہلیت کا عمل ہے۔”
وہ بولنے لگی۔ پھر اس نے پوچھا:
ما بقاؤنا على هذا الأمر الصالح الذي جاء الله به بعد الجاهلية؟
“ہم اس صالح امر پر کب تک باقی رہیں گے جو اللہ نے جاہلیت کے بعد دیا؟”
ابو بکر رضی اللہ عنہ نے جواب دیا: بقاؤكم عليه ما استقامت بكم أئمتكم - “تم اس پر اس وقت تک باقی رہو گے جب تک تمہارے ائمہ تمہارے ساتھ سیدھے رہیں گے۔”
یہ روایت اس بحث کا دل ہے۔
عورت ایک غلط عبادتی عمل کر رہی تھی۔ ابو بکر رضی اللہ عنہ نے اسے فوراً درست کیا۔ انہوں نے یہ نہیں کہا کہ عوام ایسے ہی ہیں، پہلے عوام ٹھیک ہوں۔ انہوں نے حکم دیا۔ غلط عمل کو جاہلیت کہا۔ اسے درست کیا۔
پھر جب سوال آیا کہ یہ صالح امر کب تک باقی رہے گا، تو جواب عوام کے اعمال سے نہیں دیا۔ جواب دیا:
جب تک تمہارے ائمہ سیدھے رہیں گے۔
یہ مرفوع حدیث نہیں، بلکہ ابو بکر رضی اللہ عنہ کا قول ہے۔ مگر صحیح بخاری میں ہے۔ اور یہ کوئی عام آدمی نہیں، رسول اللہ ﷺ کے بعد امت کے سب سے افضل انسان، پہلے خلیفہ، ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ ہیں۔
ان کے فہم میں صالح اجتماعی نظم کی بقا ائمہ کی استقامت سے ہے۔
یہ “عوام حکمرانوں کو بناتے ہیں” والی بات نہیں۔ یہ “حکمران عوام کو صالح امر پر قائم رکھتے ہیں” والی بات ہے۔
عثمان رضی اللہ عنہ سے منسوب مشہور اثر اسی معنی کو مزید کھولتا ہے:
إن الله يزع بالسلطان ما لا يزع بالقرآن
“اللہ سلطان کے ذریعے وہ چیز روک دیتا ہے جو قرآن کی نصیحت سے نہیں رکتی۔”
اسے حدیثِ نبوی بنا کر پیش نہیں کرنا چاہیے۔ یہ عثمان رضی اللہ عنہ سے مشہور اثر ہے۔ مگر معنی بہت اہم ہے۔
کچھ لوگ قرآن سن کر رک جاتے ہیں۔ کچھ نصیحت سے سنبھل جاتے ہیں۔ مگر کچھ لوگ اس وقت تک نہیں رکتے جب تک قانون، عدالت، سزا، اور سلطان سامنے نہ آئے۔ اس لیے معاشرے کی اصلاح صرف ذاتی وعظ سے نہیں ہوتی۔ حکومت بھی اللہ کا ایک ذریعہ ہے جس کے ذریعے فساد رکتا ہے، حقوق محفوظ ہوتے ہیں، حدود قائم ہوتی ہیں، اور ظالم کو کھلی چھٹی نہیں ملتی۔
یہی اصل نکتہ ہے۔
حکمران صرف عوام کا عکس نہیں۔ حکمران عوام کو روکتا ہے، بناتا ہے، بچاتا ہے، یا بگاڑتا ہے۔
اگر حاکم عادل ہو تو بازار بدلتا ہے۔ عدالت بدلتی ہے۔ کمزور کو زبان ملتی ہے۔ ظالم ڈرتا ہے۔ خیانت مہنگی ہو جاتی ہے۔ دیانت کو جگہ ملتی ہے۔
اگر حاکم فاسد ہو تو جھوٹ اوپر سے جائز ہو جاتا ہے۔ ظلم قانون بن جاتا ہے۔ بددیانت ترقی پاتا ہے۔ صالح ذلیل ہوتا ہے۔ اور عوام آہستہ آہستہ وہی سیکھتے ہیں جسے نظام انعام دیتا ہے۔
اسی لیے رسول اللہ ﷺ نے امت کی سیاسی تبدیلی کو بھی بہت واضح لفظوں میں بیان فرمایا۔ سفینہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے:
الخلافة في أمتي ثلاثون سنة، ثم ملك بعد ذلك
“میری امت میں خلافت تیس سال رہے گی، پھر اس کے بعد بادشاہت ہو گی۔”
اس حساب میں ابو بکر، عمر، عثمان، علی رضی اللہ عنہم، اور حسن رضی اللہ عنہ کے چھ ماہ شامل ہوتے ہیں۔
یہ بھی “جیسی رعایا ویسے حکمران” نہیں ہے۔ یہ سیاسی صورت کی تبدیلی ہے: خلافتِ نبوت، پھر مُلک۔ علی رضی اللہ عنہ کی شہادت، حسن رضی اللہ عنہ کی صلح، اور پھر خلافتِ نبوت سے مُلک کی طرف انتقال، یہ امت کی سیاسی روح میں بنیادی تبدیلی تھی۔
اس کو صرف عوامی اخلاق کی نیچے سے اوپر والی کہانی بنا دینا حدیثی فریم کو کمزور کرنا ہے۔
اب یہاں ایک اور کمزور روایت آتی ہے جسے اکثر اسی مقصد کے لیے استعمال کیا جاتا ہے:
رجعنا من الجهاد الأصغر إلى الجهاد الأكبر
“ہم چھوٹے جہاد سے بڑے جہاد کی طرف لوٹے۔”
پھر کہا جاتا ہے کہ بڑا جہاد نفس کا جہاد ہے۔ اس سے نتیجہ نکالا جاتا ہے کہ اصل کام اندر کا ہے، باہر کے ظلم پر بات نہ کرو۔
یہ روایت بھی صحیح نہیں۔ محدثین نے اسے ثابت نہیں مانا۔ ابن حجر نے کہا کہ یہ ابراہیم بن ابی عبلہ کا کلام ہے، حدیث نہیں۔ ابن تیمیہ نے تبوک سے منسوب اس روایت کے بارے میں کہا: لا أصل له، اس کی کوئی اصل نہیں۔
نفس کا جہاد حقیقی ہے۔ انسان کو اپنی خواہش، خوف، حرص، بخل، غصہ، ریا، اور نفاق سے لڑنا ہے۔ مگر ایک کمزور روایت کو استعمال کر کے public duty ختم نہیں کی جا سکتی۔
صحیح حدیث اس کے برعکس کہتی ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
أفضل الجهاد كلمة حق عند سلطان جائر
“افضل جہاد ظالم سلطان کے سامنے حق بات کہنا ہے۔”
یہ نجی self-help نہیں۔ یہ public truth ہے۔ یہ اس جگہ حق کہنا ہے جہاں حق کہنے کی قیمت ہو سکتی ہے۔
اور ایک اور روایت میں آیا:
سيد الشهداء حمزة بن عبد المطلب، ورجل قام إلى إمام جائر فأمره ونهاه فقتله
“شہداء کے سردار حمزہ بن عبد المطلب ہیں، اور وہ شخص جو ظالم امام کے سامنے کھڑا ہوا، اسے امر کیا، اسے منع کیا، پھر اس نے اسے قتل کر دیا۔”
یہاں بھی اصل عمل ذاتی اصلاح تک محدود نہیں۔ وہ شخص ظالم امام کے سامنے کھڑا ہوتا ہے۔ اسے امر کرتا ہے۔ اسے منع کرتا ہے۔ پھر قتل ہو جاتا ہے۔ اس کا مقام حمزہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ شہداء کے سرداروں میں بیان ہوتا ہے۔
تو پھر کون سا دین ہے جو ظلم کے سامنے صرف یہ کہتا ہے: “اپنے آپ کو ٹھیک کرو”؟
قرآن تو کہتا ہے:
وَلْتَكُن مِّنكُمْ أُمَّةٌ يَدْعُونَ إِلَى الْخَيْرِ وَيَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَيَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنكَرِ
“تم میں سے ایک جماعت ہونی چاہیے جو خیر کی طرف بلائے، معروف کا حکم دے، اور منکر سے روکے۔”
یہ پوری انسانیت نہیں۔ یہ اکثریت بھی نہیں۔ یہ مِّنكُمْ أُمَّةٌ ہے، تم میں سے ایک جماعت۔ اصلاح ہمیشہ اکثریت سے شروع نہیں ہوتی۔ اکثر ایک چھوٹا گروہ کھڑا ہوتا ہے۔ وہ حق پہچانتا ہے۔ وہ کہتا ہے۔ وہ روکتا ہے۔ وہ سہتا ہے۔
قرآن اکثریت کو معیار نہیں بناتا۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
وَإِن تُطِعْ أَكْثَرَ مَن فِي الْأَرْضِ يُضِلُّوكَ عَن سَبِيلِ اللَّهِ
“اگر تم زمین والوں کی اکثریت کی پیروی کرو گے تو وہ تمہیں اللہ کے راستے سے گمراہ کر دیں گے۔”
یہ آیت اس پورے کمزور political theology کو توڑ دیتی ہے۔
اگر اکثریت معیار ہوتی تو کوئی نبی کامیاب نہ ہوتا۔ ہر نبی اپنی قوم کے سامنے آیا، اور اکثر اکیلا آیا۔ نوح علیہ السلام نے صدیوں دعوت دی، ایمان لانے والے تھوڑے تھے۔ ابراہیم علیہ السلام اپنے باپ، قوم، اور سیاسی طاقت کے سامنے کھڑے ہوئے۔ موسیٰ علیہ السلام فرعون کے سامنے کھڑے ہوئے، جبکہ بنی اسرائیل خود خوف، کمزوری، اور شکایتوں میں گھرے ہوئے تھے۔ عیسیٰ علیہ السلام کے ساتھ حواریین کی چھوٹی جماعت تھی۔ محمد ﷺ مکہ میں ایک چھوٹے گروہ کے ساتھ کھڑے ہوئے، جبکہ اکثریت مخالف تھی۔
اگر اصل قاعدہ یہ ہوتا کہ پہلے عوام کی اکثریت صالح ہو، پھر صالح قیادت آئے، تو نبوت کی پوری تاریخ سمجھ میں نہیں آتی۔
نبی اکرم ﷺ لوگوں کے already righteous majority بن جانے کے بعد نہیں آئے۔ آپ ﷺ جاہلیت میں آئے۔ بت پرستی میں آئے۔ سود، ظلم، قبائلی غرور، بیٹیوں کو زندہ دفن کرنے، کمزور کو کچلنے، اور طاقت کو حق سمجھنے والے معاشرے میں آئے۔
نبوت خود اس بات کی دلیل ہے کہ اللہ corrupt people میں leadership بھیجتا ہے۔ ہدایت اوپر سے آتی ہے۔ وحی آتی ہے۔ رسول آتا ہے۔ حکم آتا ہے۔ فرقان آتا ہے۔ پھر ایک چھوٹا گروہ اسے اٹھاتا ہے۔ پھر معاشرہ بدلتا ہے۔
اس لیے “اکثریت پہلے ٹھیک ہو” دین کا قاعدہ نہیں۔ یہ defeatist politics کا قاعدہ ہے۔
ہاں، عوام کی ذمہ داری ختم نہیں ہوتی۔ صحیح مسلم میں ہے کہ تم پر ایسے حکمران آئیں گے جن کے بعض اعمال کو تم پہچانو گے اور بعض کا انکار کرو گے۔ جو ان کے برے عمل کو ناپسند کرے وہ بری ہو گیا، جو انکار کرے وہ محفوظ ہو گیا، لیکن جو راضی ہوا اور پیروی کی وہ مؤاخذہ میں آئے گا۔
یہ عوام کو جواب دہ بناتا ہے۔ مگر کس چیز پر؟ ظلم سے رضا پر۔ ظلم کی پیروی پر۔ منکر کو قبول کرنے پر۔
اسی طرح ابو بکر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
إن الناس إذا رأوا الظالم فلم يأخذوا على يديه أوشك أن يعمهم الله بعقاب منه
“جب لوگ ظالم کو دیکھیں اور اس کا ہاتھ نہ روکیں، تو قریب ہے کہ اللہ ان سب کو اپنے عذاب میں گھیر لے۔”
یہ بھی عوام کو ذمہ دار بناتا ہے۔ مگر یہ نہیں کہتا کہ ظالم تمہارا عکس ہے، اس لیے بیٹھے رہو۔ یہ کہتا ہے: ظالم کو روکو، ورنہ عمومی عذاب آ سکتا ہے۔
یہاں اصل فرق سمجھنا ضروری ہے۔
ذاتی اصلاح فرض ہے۔ نماز، تقویٰ، توبہ، صدق، امانت، حلال رزق، نفس کا مجاہدہ، سب فرض ہیں۔ مگر جب ظلم public ہو جائے تو اصلاح بھی public ہو جاتی ہے۔ جب منکر قانون بن جائے تو نہی عن المنکر صرف دل کی کیفیت نہیں رہتی۔ جب ظلم سلطان کے ذریعے آ رہا ہو تو كلمة حق عند سلطان جائر افضل جہاد بن جاتی ہے۔
اس لیے “اپنے آپ کو ٹھیک کرو” آدھا جملہ ہے۔ پورا جملہ یہ ہے:
اپنے آپ کو ٹھیک کرو، پھر معروف کا حکم دو، منکر سے روکو، ظالم کے سامنے حق کہو، اور حکم کو عدل کی طرف واپس بلاؤ۔
کمزور مقولہ لوگوں کو private guilt میں بند کرتا ہے۔ قرآن و حدیث انہیں public responsibility کی طرف لے جاتے ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ “جیسی رعایا، ویسے حکمران” کو حدیث بنا کر پیش کرنا خطرناک ہے۔ یہ صرف سندی غلطی نہیں۔ یہ سیاسی طور پر بھی خطرناک ہے۔ یہ ظالم کے وزن کو کم کرتا ہے۔ یہ مظلوم کو ہی مجرم بنا دیتا ہے۔ یہ اصلاح کو ذاتی ندامت تک محدود کر دیتا ہے۔ یہ امت کو کہتا ہے کہ جب تک سب اچھے نہیں ہوتے، کچھ نہیں بدلے گا۔
لیکن وحی کہتی ہے: اکثریت معیار نہیں۔ ایک جماعت اٹھے۔ حق کہے۔ معروف کا حکم دے۔ منکر سے روکے۔ ظالم سلطان کے سامنے سچ بولے۔ حکم کو عدل کی طرف بلائے۔
یہی نبوت کا راستہ ہے۔
پس اصل اسلامی فریم یہ نہیں:
جیسے عوام، ویسے حکمران۔
اصل فریم یہ ہے:
حکم امانت ہے۔ ائمہ سیدھے رہیں تو صالح امر باقی رہتا ہے۔ حکم ٹوٹے تو دین کی اجتماعی گرہیں کھلتی ہیں۔ سلطان عادل ہو تو معاشرہ سنبھلتا ہے۔ سلطان فاسد ہو تو فساد نظام بن جاتا ہے۔ عوام ظلم سے راضی ہوں، اس کی پیروی کریں، یا اسے روکنے کی قدرت کے باوجود خاموش رہیں تو وہ بھی مجرم ہیں۔ مگر حاکم صرف عوام کا عکس نہیں۔ وہ سب سے بڑا public lever ہے: اصلاح کا بھی، فساد کا بھی۔
اور اگر ظلم کے سامنے حق بولنے والا شخص مار دیا جائے، تو وہ ناکام نہیں۔ حدیث اسے حمزہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ شہداء کے سرداروں میں رکھتی ہے۔
یہی طرف ہے۔
ہم اس طرف کھڑے ہیں۔




Great, good charity